شام کے صدر بشار الاسد کا عروج و زوال، ڈاکٹر سے آمر تک | حصہ-1

ہیلو! آپ کیسے ہیں؟ میں عبید کھوکھر ہوں۔

آج ہم شام کے صدر بشار الاسد کے عروج و زوال پر نظر ڈالیں گے، جس کا آغاز ایک ڈاکٹر سے ہوا اور وہ آمر بن گئے۔

شام کا تاریخی شہر حلب انسانی تاریخ کا ایک ایسا مقام ہے جسے کسی بھی عظیم مورخ یا راوی نے نظرانداز نہیں کیا۔ بائبل میں ذکر ہے کہ بنی اسرائیل کے رہنما حضرت ابراہیم نے یہاں اپنے بھیڑ بکریوں کو چَھاڑ کر ان کا دودھ دوہا۔ اس وجہ سے شہر کا نام مقامی لفظ "ہلب" سے آیا، جو بعد میں "حلب" کے نام سے مشہور ہوا۔ سکندر اعظم نے یہاں 2300 سال پہلے آبادیاں قائم کی تھیں۔ 1100 سال قبل، اس شہر کا ذکر طبری کی تاریخ میں آیا تھا۔ ابن بطوطہ نے چھ صدیوں قبل اس شہر کو شام کا بہترین شہر قرار دیا۔ 600 سال پہلے، مشہور مورخ ابن خلدون نے اسے دولت اور ثقافت کا مرکز کہا تھا۔ پانچ صدیوں قبل، ولیم شیکسپیئر نے اپنی تقاریر میں اس شہر کا ذکر کیا۔ "نائٹ انگل" اور "عرب راتوں" میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ کیرن اور قافلے اس شہر کے باہر رات گزارنے کے لئے رک جاتے تھے اور پھر یہ قافلے مختلف جگہوں سے گزر کر بالآخر پاکستان کے بلوچستان کے علاقے تک پہنچ جاتے تھے۔


افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ شہر جو ایک وقت میں سلطنتوں اور کہانیوں کی روح تھا، اب دہائیوں سے امن سے محروم ہوچکا ہے۔ یہاں خون کی ندیاں بہائی جارہی ہیں جو انسانیت کے لئے شرم کا باعث ہیں۔ آخری جنگ 2012 سے 2016 تک جاری رہی جس میں 31000 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے اکثر کو ان کے ہم وطنوں نے قتل کیا۔ یہ تاریخی شہر جنگ کے دوران اتنی بری طرح تباہ ہوا کہ اسے شام کا اسٹالن گراڈ کہہ دیا گیا۔ جب طویل خانہ جنگی 2016 کے دسمبر میں ختم ہوئی، تو شام کے صدر بشار الاسد فاتح کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے روس، ایران اور حزب اللہ کی مدد سے مخالف قوتوں کو شکست دی اور انہیں پڑوسی شہر ادلب کی طرف دھکیل دیا۔

شہر کی دوبارہ تعمیر کے لئے کوئی باضابطہ کوشش نہیں کی گئی، لیکن زندگی نے اپنا راستہ اختیار کیا اور اگلے آٹھ سالوں میں شہر آہستہ آہستہ اپنے سابقہ عروج کی طرف واپس لوٹنے لگا۔ مگر 27 نومبر کی رات کو، تاریخی شہر حلب ایک بار پھر دو خودکش بم دھماکوں سے گونج اُٹھا۔ یہ دھماکے مخالف گروہ "حیات التحریر الشام" نے کئے، جو ترکی اور یوکرین کی فوجی امداد پر انحصار کرتا ہے۔ یہ حملے رات کے قریب صبح کے وقت کئے گئے، ادلب سے حلب آنے والی سڑک کے ابتدائی چیک پوائنٹس پر، جو آٹھ سالوں کی نسبتاً امن کے بعد نظرانداز ہو چکی تھی۔


یہ دھماکے حلب تک پہنچنے والی واحد اہم سڑک کو باغیوں کے لیے کھولنے کے لیے کئے گئے۔ حیات التحریر الشام، جو پہلے القاعدہ اور داعش سے منسلک تھا، اپنے اتحادی ترکی اور امریکہ کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کے ساتھ حلب میں پورے تیار ہو کر آیا تھا۔ ان کے پاس رات کو دیکھنے کا مکمل سامان تھا اور یوکرین میں ایک یونٹ نے انہیں رات کے آپریشنز کی تربیت دی تھی۔ یہ وہ تربیت یافتہ لوگ تھے جنہیں نیٹو اور امریکہ نے تربیت دی تھی۔ اگرچہ اس جنگ میں ڈرون کے استعمال کی کوئی رپورٹ نہیں آئی، مگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جاسوسی کے لئے ڈرون استعمال کئے گئے ہوں گے۔

اس حملے کا پہلا مقصد 27 نومبر کو شام کی مرکزی M5 ہائی وے کو قبضے میں لینا تھا۔ یہ سڑک شام کے اہم شہروں کو دمشق کے طاقت کے مرکز سے جوڑتی ہے۔ 27 نومبر سے 30 نومبر تک، باغی فورسز نے اس سڑک پر آسانی سے قبضہ کر لیا اور 200 کے قریب گاؤں اور شہر بھی فتح کر لئے۔ اسی دن یہ فورسز حلب میں بھی پہنچ گئیں اور انہوں نے وہاں اپنی تصاویر جاری کیں۔ اس کا مطلب تھا کہ شہر ترک-امریکی حمایت یافتہ حیات التحریر الشام کے ہاتھوں میں آ چکا تھا۔ کچھ اور چھوٹے گروہ بھی اس تنظیم کے ساتھ تھے۔

یہ جنگ جب شروع ہوئی تو، شام کی فوج "شامی عرب فوج" اور کچھ روسی ریزرو فوج کے سپاہی حلب کی دفاع کے لئے وہاں موجود تھے۔ لیکن انہیں اس اچانک حملے کے لئے تیار نہیں کیا گیا تھا۔ حلب کی اہمیت کے پیش نظر، باغیوں نے وہاں موجود قلعہ حلب سے باہر بھی تصاویر جاری کیں۔

آپ کو مزید دلچسپ تفصیلات جان کر حیرانی ہوگی کہ حلب کی یہ جنگ نہ صرف شام کے صدر بشار الاسد بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات کا مقابلہ بن چکی ہے، اور یہ حقیقت ایک پیچیدہ جغرافیائی اور سیاسی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔

اس تنازعہ میں مزید تفصیلات کا جائزہ لیں گے اور اس کا تجزیہ کرنے کی کوشش کریں گے، خاص طور پر اس وقت کے عالمی قوتوں کے کردار پر۔ اس بات کا جائزہ لینے کے لئے کہ مختلف ممالک بشار الاسد کے خلاف اور اس کے حامیوں کے طور پر کیسے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کا تسلسل اگلے حصے میں دیکھیں گے۔